
مکہ
حجرِ اسود
حجرِ اسود - جنت سے اتارا گیا پتھر، کعبہ کے مشرقی رکن میں نصب۔
حجرِ اسود کیا ہے اور کیا مسلمان اس کی عبادت کرتے ہیں؟
حجرِ اسود کعبہ کے مشرقی رکن میں نصب ایک پتھر ہے جو طواف کے ہر چکر کی ابتدا کا نشان ہے۔ مسلمان اس کی عبادت نہیں کرتے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: «میں جانتا ہوں کہ تُو صرف ایک پتھر ہے... میں تجھے صرف اس لیے چومتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو چومتے دیکھا۔»
اہمیت و تاریخ
حدیث میں آیا ہے کہ یہ پتھر جنت سے اتارا گیا۔ اب یہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر چاندی کے فریم میں یکجا ہے۔ یہ طواف کے ہر چکر کی ابتدا اور اختتام کا نشان ہے۔ اس کی روحانی اہمیت خود پتھر میں نہیں بلکہ نبی ﷺ کی سنت پر عمل میں ہے۔
【BOOK】 مصنف کا پہلے طواف پر استلام کا بیان یہاں شامل کیا جائے گا۔
مناسک میں مقام
طواف کا ہر چکر حجرِ اسود کی سیدھ سے شروع ہوتا ہے۔ زائرین استلام کرتے ہیں - اگر ممکن ہو تو بوسہ، یا دائیں ہاتھ سے چھونا، یا رش میں دور سے اشارہ کر کے «بِسْمِ اللّٰہ، اللّٰہُ اَکْبَر» کہنا۔
آداب
- پتھر تک پہنچنے کے لیے دھکا نہ دیں یا کسی کو نقصان نہ پہنچائیں - یہ حرام ہے۔
- دور سے اشارہ مکمل طور پر جائز اور رش میں محفوظ ہے۔
- مطاف میں رکن کے قریب رک کر بہاؤ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
- خواتین کو مشورہ ہے کہ حفاظت کے لیے دور سے سلام کریں۔
اہم حقائق
پتھر ٹکڑوں میں ہے؛ چاندی کا فریم عبداللہ بن الزبیرؓ کے دور میں لگایا گیا۔
اخلاص کے ساتھ اشارہ کر کے استلام کرنے کا ثواب برابر ہے۔
اس کے مشرقی رکن کو رکنِ اسود کہتے ہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے اس پتھر کو چھونا گناہ مٹا دیتا ہے۔
زائرین کے لیے معلومات
- مقام
- کعبہ کا مشرقی رکن، مطاف کی زمینی سطح
- اوقات
- دیر رات (عشاء کے بعد) اور فجر سے پہلے آسان رسائی؛ دوپہر میں سب سے زیادہ رش۔
- - رش کے اوقات میں پتھر تک جسمانی طور پر پہنچنے کی کوشش نہ کریں۔
- - مطاف کے کنارے سے آئیں تاکہ رش میں محفوظ نکل سکیں۔
- - ہر چکر کی ابتدا میں «بِسْمِ اللّٰہ، اللّٰہُ اَکْبَر» کہیں، چاہے چھو نہ سکیں۔